از قلم: دروج فاطمہ، جامعہ المصطفیٰ کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی| اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے، لیکن اس کی آزادی مطلق نہیں بلکہ حدود و قیود کی حامل ہے۔
جہاں تک مادی پہلو کا تعلق ہے، انسان فطری قوانین کے تابع ہے اور اس میں اس کا کوئی ارادہ یا اختیار نہیں ہوتا۔ البتہ روحانی اور ارادی پہلو میں انسان کو اختیار عطا کیا گیا ہے، اور حق و باطل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا اسی کے ہاتھ میں ہے۔
دنیا میں بہت سے لوگ آزادی کے دعوے دار ہیں، لیکن قرآنِ مجید اور مکتبِ اہلِ بیتؑ ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ حقیقی آزادی کا تعلق جسم سے پہلے روح کے ساتھ ہے۔
اگر کوئی انسان دنیا کی تمام نعمتوں کا مالک ہو، لیکن اپنے نفس کا غلام ہو، تو وہ حقیقت میں آزاد نہیں۔ اس کے برعکس، اگر کوئی ظاہری طور پر پابندیوں میں ہو، مگر حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے، تو وہی حقیقی حُر ہے۔
انسان فکری اور ارادی اعتبار سے بہت سے معاملات میں آزاد ہے۔ وہ اپنی فکر، صلاحیت اور توانائی کو جس راہ میں چاہے صرف کر سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنی عقل و شعور کو حق اور باطل میں تمیز کرنے کے لیے استعمال کرے اور حق کا دامن تھام لے، تو خداوندِ متعال اسے ہر باطل کی غلامی سے نجات عطا فرما دیتا ہے، اور یہی حقیقی حریت ہے۔
جب انسان باطل کی غلامی، خواہشاتِ نفس، غرور، دنیا پرستی اور گناہوں کی زنجیروں کو توڑ کر خود کو ولیِ خدا کی اطاعت کے لیے وقف کر دیتا ہے، تو وہی انسان حقیقی حُر بن جاتا ہے۔
حضرت حُر بن یزید ریاحیؑ کی زندگی اسی حقیقت کی روشن ترین مثال ہے کہ حق کی طرف ایک مخلصانہ رجوع انسان کو ہمیشہ کے لیے آزادی، عزت اور ابدی کامیابی عطا کر دیتا ہے۔
آیا تھا سب سے دیر میں، لیکن کمال ہے
حُرؑ سب سے پہلے لے گیا جنت حسینؑ سے









آپ کا تبصرہ